کے پی کے # زیر نظر تصویر ایک طالب علم سلیم خان کی ہے جس کا تعلق شبقدر کے علاقے سبحان خوڑ سے ہیں۔ انھوں نے کوڑا کرکٹ بیچ کر اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں اسٹر آف انگلش میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
طالب علم سلیم خان کو اس امتیازی پوزیشن پر یونیورسٹی نے سالانہ کانووکیشن میں گولڈ میڈل کے لیے نامزد کر دیا، سلیم خان نے میٹرک میں ایسے حالات میں تعلیم حاصل کی ہے کہ ان کے پاس کتابیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکول سے واپس آ کر کباڑ اکٹھا کرتے اور اسے بیچ کر کتابیں خریدتے، سلیم خان نے میٹرک میں بھی ٹاپ کیا تھا، سلیم خان کے والد بے روزگار ہیں جبکہ والدہ لوگوں کے گھروں میں جا کر کپڑے دھوتی تھیں ،
سلیم خان کے بھائی کامران نے ساتویں جماعت تک اول پوزیشن لی تھی ، بعد میں اس (کامران) نے نیا یونیفارم نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی ۔ گوکہ سلیم خان بھائی کے مقابلے میں زیادہ ہمت دکھاگیا اور کسمپرسی کی حالت میں بھی ہمت نہ ہارتے ہوئے تعلیم حاصل کی ۔
مگر اب اس کا کہنا ہے کہ کہ ماسٹر کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں ، حکومت اگر مجھے اسکالر شپ پر ایم فل میں ایڈمیشن دلوا دے تو میں اپنا تعلیمی سفر آگے بڑھا سکتا ہوں۔
ادھر سلیم خان کے ٹیچر پروفیسر عرفان اللہ نے کہا کہ سلیم باصلاحیت، محنتی اور اچھے اخلاق کا طالب علم ہے، بہت غریب ہے لیکن علم کے لحاظ سے کلاس میں سب سے مالدار ہیں
اس نے غربت کو بھلا کر اپنے مشن پر دن رات ایک کیا، گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اپنا خواب پورا کیا، پروفیسر عرفان اللہ کا کہنا تھا کہ ارادے پختہ ہوں تو منزل ضرور ملتی ہے،
اس لیے حکومت تعلیم کے حوالے سے سلیم خان مدد ضرور کریں
طالب علم سلیم خان کو اس امتیازی پوزیشن پر یونیورسٹی نے سالانہ کانووکیشن میں گولڈ میڈل کے لیے نامزد کر دیا، سلیم خان نے میٹرک میں ایسے حالات میں تعلیم حاصل کی ہے کہ ان کے پاس کتابیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکول سے واپس آ کر کباڑ اکٹھا کرتے اور اسے بیچ کر کتابیں خریدتے، سلیم خان نے میٹرک میں بھی ٹاپ کیا تھا، سلیم خان کے والد بے روزگار ہیں جبکہ والدہ لوگوں کے گھروں میں جا کر کپڑے دھوتی تھیں ،
سلیم خان کے بھائی کامران نے ساتویں جماعت تک اول پوزیشن لی تھی ، بعد میں اس (کامران) نے نیا یونیفارم نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی ۔ گوکہ سلیم خان بھائی کے مقابلے میں زیادہ ہمت دکھاگیا اور کسمپرسی کی حالت میں بھی ہمت نہ ہارتے ہوئے تعلیم حاصل کی ۔
مگر اب اس کا کہنا ہے کہ کہ ماسٹر کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں ، حکومت اگر مجھے اسکالر شپ پر ایم فل میں ایڈمیشن دلوا دے تو میں اپنا تعلیمی سفر آگے بڑھا سکتا ہوں۔
ادھر سلیم خان کے ٹیچر پروفیسر عرفان اللہ نے کہا کہ سلیم باصلاحیت، محنتی اور اچھے اخلاق کا طالب علم ہے، بہت غریب ہے لیکن علم کے لحاظ سے کلاس میں سب سے مالدار ہیں
اس نے غربت کو بھلا کر اپنے مشن پر دن رات ایک کیا، گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اپنا خواب پورا کیا، پروفیسر عرفان اللہ کا کہنا تھا کہ ارادے پختہ ہوں تو منزل ضرور ملتی ہے،
اس لیے حکومت تعلیم کے حوالے سے سلیم خان مدد ضرور کریں

No comments:
Post a Comment